ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان نے اسپین میں میڈرڈ یونیورسٹی میں ایک خطاب کے دوران سکیورٹی کونسل کے ارکان کو ایٹمی ہتھیار رکھنے پر شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کونسل کے ارکان بین الاقوامی قوانین کو پامال کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان ایک طرف اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو محفوظ اور پیشرفتہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف دیگر ممالک سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ایٹمی ہتھیار نہ بنائیں۔
تر کی کے وزیر اعظم نے سکیورٹی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا جواز ہے کہ آپ کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود رہیں اور دوسروں سے کہیں کہ آپ ایٹمی ہتھیار تیار نہ کریں ۔تر کی کے وزیر اعظم نے میڈرڈ یونیورسٹی میں خطاب کے دوران عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران ، ترکی اور برازیل کے درمیان ہونے والے بے مثال اور تاریخی معاہدے کی حمایت کریں۔ انھوں نے کہا کہ تہران اعلامیہ ایران کے ایٹمی معاملے کو حل کرنے کے لئے بہت ہی مثبت اور اہم ہے اور اس فرصت سے عالمی برادری کو استفادہ کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ ایران اور برازیل کے صدور اور ترکی کے وزیر اعظم نے تہران میں ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں ۔ اس معاہدے کی روشنی میں ایران ایک ہفتہ تک بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو خط کے ذریعہ ایٹمی ایندھن کے تبادلے کے بارے میں آگاہ کرےگا۔ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متکی نے ایران ، ترکی اور برازیل کے دس شقوں پر مشتمل معاہدے پر اتفاق کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ایران 1200 کلو گرام کم افزودہ یورینیم ترکی میں امانت کے طور پر رکھےگا جس پر ایران کی ملکیت ہوگی اور ایران اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو اس پر نگرانی کا حق ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/152